giovedì 8 gennaio 2015

سب سے اعلیٰ و اولیٰ ہمارا نبی

 تحریر حافط رجب جاوید12 ربیع الاول 1436ه

بقول غالب نہ تھا کچھ تو خدا تھا ،اللہ تو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ، اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں سب انبیا کی روحوں کو جمع کیا اور ان اس ایک عہد لیا جس کا ذکر سورۃ آل عمران کی آیات ۸۱ میں ہے سب انبیا ؑ کی ارواح سے عہد لیا گیا اگر ان کے ہوتے رسولﷺ تشریف لے آئیں تو سب کو ان کی تصدیق کرنی ہو گی اور مدد اور نصرت کرنی ہو گی اور سب نے اقرار کیا، سبحان اللہ کیسی شان اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو عطا فرمائی ابھی عالم ارواح میں انبیا کی روحوں کو پیدا کرتے ساتھ ہی اپنے آخری رسول ﷺ سے متعارف کرادیا یہی وجہ تھی ہر نبی آدم ؑ سے لے کر عیسٰی ؑ تک یہ خواہش اور دعا کرتے رہے کی ان ہوتے حضرت
محمدﷺ تشریف لے آئیں اور وہ آپ ﷺ کے ساتھی بن جائیں صرف عیسٰی ؑ کی دعا اس طرح قبول ہوئی وہ زندہ آسمان پر اُٹھالئے گئے اب قیامت سے پہلے نبیﷺ کے امتی بن کے تشریف لائیں گے۔آپﷺ تو اس وقت بھی نبی تھے جب ابھی ابوالبشر آدم ؑ پانی اور مٹی میں تھے اگر اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ﷺ کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا نہ زمین و آسمان نہ چاند ستارے نہ جن و انس نہ جہاں میں کچھ، جیسا کہ احادیث کے مفہوم سے واضح ہے اگر اللہ پاک نے حضر ت محمد ﷺ کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا ،نبی ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔

حضورﷺ سے محبت اور عشق دین اسلام کا بنیادی تقاضا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر ایمان کی تکمیل کے لئے محبت و عشق رسول ﷺ کو لازمی قرار دیا حضور ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے اہل وعیا ل مال و دولت حتٰی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرے ،یہ ہی وجہ تھی نبی ﷺ کے اصحابؓ نے عشق و محبت کر کے دیکھا دیا آپ ﷺ کا حکم تو دور کی بات جہاں جہاں آپ ﷺ کا پسینہ مبارک گرا وہاں وہاں صحابہؓ نے اپنے خون کی ندیا ں بہا دیں اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔

عروہ بن مسعود کو قریش نے صلح حدیبیہ سے پیشتر اپنا سفیر بنا کر جب بھیجا تو اس نے دیکھا کہ نبیﷺ وضو کرتے ہیں تو صحابہؓ بقیہ پانی پر یوں گرتے پڑتے ہیں گویا ابھی لڑ پڑیں حضورﷺ کے لعب وغیرہ کو زمین پر نہیں گرنے دیتے ۔حضورﷺ کوئی حکم دیتے ہیں تو تعمیل کے لئے سبھی دوڑے پھرتے ہیں حضور ﷺ کچھ بولتے ہیں تو چپ چاپ ہو جاتے ہیں تعظیم کا یہ عالم ہے کی حضور ﷺ کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے عروہ نے یہ سب کچھ دیکھا اور قوم سے آکر بیان کیا ۔ لوگو!میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کا دربار بھی دیکھا ہے ،مگر اصحاب محمدﷺ جو تعظیم محمدﷺ کی کرتے ہیں وہ تو کسی بادشاہ کو بھی اپنے ملک اور دربار میں حاصل نہیں ۔

حضرت زیدبن وثنہ کو کفار نے پکڑ لیا جب قریش ان کو سولی دینے کے لئے چلے تو ابو سفیان بن حرب نے ان سے کہا، زید تجھے خدا ہی کی قسم تم چاہتے ہو ؟ کہ محمدﷺ کو پھانسی دی جاتی اور تم اپنے گھر میں آرام سے ہوتے ؟ حضرت زید نے کہا اللہ کی قسم میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کی میری رہائی کے بدلے نبیﷺ کے پائے مبارک میں اپنے گھر کے اندر بھی کانٹا لگے۔ابو سفیان حیران رہ گیا اور یو کہاکی میں نے تو کسی کو بھی نہ دیکھا جو دوسرے شخص سے ایسے محبت رکھتا ہو جیسے اصحاب محمدﷺ کو محمد ﷺ سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضور ﷺ کی امت میں پیدا کر کے ہم پر عظیم نعمت کی ہے اس سے بڑی نعمت اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی جس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے اور دنیا میں ایسا کو مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جسے حضورﷺ سے محبت نہ ہو یا جسے آپﷺ کی ولادت اس دنیا میں آمد کی خوشی نہ ہو ،مزید اللہ پاک نے ہم مسلمانوں پر یہ احسان کیا جو صدیوں بعد آئے ،ہمارے لئے اپنے حبیب ہمارے آقا ﷺ کے اس دنیا میں قیام کے ایک ایک دن اور لمحے کو محفوظ کر دیا سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا بیشک رسولﷺ تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے آپﷺ نے ظاہری دنیا میں22330 دن اور6گھنٹے قیام کیا جن میں تبلیغ رسالت ونبوت8156 دن ہیں سیرت واحادیث کی کتابوں اور قران پاک میں سب محفوظ ہے ہمیں چاہیے کی ہم خود مطالعہ کریں ،کیونکہ ہمارے رسولﷺ ہمیں مکمل اور کامل دین دے کر اور اسے قائم کر کے دیکھا گئے ہیں اب آگے پہنچانا اور اس پر عمل کرنا محبت رسول ﷺ کی شرط ہے ہم کوچاہیں کی ہم اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کریں اور محبت کرنا ان سے سیکھیں جن کو اللہ نے خود اپنے پیارے رسول ﷺ کی صحبت کے لئے چن لیا ہے، ہم بھی حضورﷺ کے احکامات پر عمل کے لئے دوڑیں، اور ہر وہ کام کریں جس سے اللہ اور رسول ﷺ خوش ہوں ،ہر امتی کلمہ گو کو اپنے علم اور فہم کے موافق حضورﷺ کا ثناء خواں ہونا چاہیے ،اور ہمارے عمل سے اظہار ہو ہم حضورﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں،ہماری پسند آپﷺ کی تعلیمات کے تابع ہو جائے ہماری محبت اور عشق صحا بہ اکرامؓ جیساہو جائے جنہوں نے جب ایمان قبول کر لیا پھر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہمیشہ آپ ﷺ کے حکم پر لبیک یا رسول اللہ کی صدا آئی اور اللہ نے بھی اپنے نبیﷺ کے اصحابؓ کو دنیا میں بشارتیں سنا دی کی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔اللہ تعالیٰ ہمارا حشر بھی آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کیساتھ فرمائے آمین
کی امحمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

Nessun commento:

Posta un commento